شمالی کوریا کا کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل کا تجربہ

پیانگ یانگ(آئی این پی ) شمالی کوریا نے اپنی جوہری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہوئے کلسٹر بم وار ہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ہواسانگ-11 بیلسٹک میزائل کم بلندی پر پرواز اور تقریبا 7 ہیکٹر کے رقبے پر پھیلے اہداف کو راکھ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی اکیڈمی آف ڈیفنس سائنس اور میزائل ایڈمنسٹریشن نے برقی مقناطیسی ہتھیاروں کے نظام، کاربن فائبر بموں اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے طیارہ شکن میزائل سسٹم کے تجربے بھی کیے ہیں۔

ان تجربوں کی نگرانی کرنے والے جنرل کم جونگ سک کا کہنا ہے کہ برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام اور کاربن فائبر بم شمالی کوریا کی فوج کے لیے خصوصی اثاثے ہیں۔اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا یوکرین اور مشرقِ وسطی کی صورتِ حال سے سبق سیکھ رہا ہے۔تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ یہ تجربات جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا کی طرف سے اس کے مخالفین اور اتحادیوں کے لیے جدید روایتی ہتھیاروں کے نظام میں طاقت کا مظاہرہ ہو سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کی کیونگنم یونیورسٹی کے پروفیسر لم ایول چول کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام دشمن کے اثاثوں میں الیکٹرانک سرکٹس کو غیر فعال کرنے اور جنوبی کوریا کے ایف 35 اے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ اور ایجس سے لیس تباہ کن جہازوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کاربن فائبر بم جو امریکا اور چین جیسی اعلی عسکری قوتوں نے تیار کیے ہیں، اپنے ہدف پر کاربن فائبر کے کنڈکٹیو اسٹرینڈز پھینک کر پاور پلانٹس جیسے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ کسی بھی قسم کے تنازع میں ایک طاقتور ہتھیار ہو سکتے ہیں۔

ڈیجیون یونیورسٹی کے پروفیسر اور سیول کی وزارتِ دفاع کے سابق اہلکار سونگ سیونگ جونگ نے کہا ہے کہ اس طرح کے ہتھیاروں کے تجربات شمالی کوریا کے خلاف جنوبی کوریا کی دفاعی حکمتِ عملی کو پیچیدہ بنا دیں گے۔واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جوہری مذاکرات کی ناکامی کے بعد اپنے جوہری صلاحیت کے حامل میزائل پروگرام کو تیز کر دیا تھا، جس کے تحت شمالی کوریا ایشیا میں امریکی اتحادیوں اور امریکی سر زمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *