Daily Views
3 days 6 hours ago
شہادتِ مولانا ادریسؒ اور فتنۂ خوارج کی مذمت
5 مئی 2026 کو خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی شہادت پوری قوم کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ ایک جید عالمِ دین، معلمِ حدیث اور سماجی رہنما کو دن دہاڑے نشانہ بنانا ثابت کرتا ہے کہ خارجی فکر کے حامل دہشت گرد عناصر نہ صرف انسانی جانوں کے درپے ہیں بلکہ علمِ دین، مذہبی قیادت اور معاشرتی استحکام کو بھی کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خوارج کو بدترین مخلوق قرار دیا اور ان کی علامت یہ بتائی کہ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے۔ ٹی ٹی پی اور دیگر خارجی گروہ اسی بدترین فکر کے پیروکار ہیں اور ان کے خلاف ریاستی کارروائی نہ صرف قانونی بلکہ شرعی تقاضا بھی ہے۔
قوم کا عزم: علم، اتحاد اور قانون کی بالادستی
مولانا طاہر اشرفی نے اس بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ علماء اور عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور قاتلوں کو قانون و انصاف کے مطابق انجام تک پہنچانا ناگزیر ہے۔ علمائے کرام، میڈیا اور ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس خارجی فتنے کی فکری اور عملی سطح پر بیخ کنی کریں اور نوجوانوں کو ٹی ٹی پی کے پروپیگنڈے سے محفوظ رکھیں۔ شہدائے علم کا خون امت کے لیے بیداری کا پیغام ہے۔ مولانا ادریس ترنگزئی کی شہادت ہمیں اتحاد، اعتدال اور قانون کی بالادستی کے لیے مزید مضبوط عزم کی دعوت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ شہید کو اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پاکستان کو اس فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
#SheikhIdrees