اسلام آباد مذاکرات پر بھارت میں ہلچل، مودی کی خارجہ پالیسی شدید تنقید کی زد میں آگئی

NEW DELHI, INDIA- AUGUST 3: Prime Minister Narendra Modi during the two day training programme Abhyas Varga (Sansad Karyashala) for all BJP Members of Parliament at Parliament Library Building, on August 3, 2019 in New Delhi, India. (Photo by Sonu Mehta/Hindustan Times via Getty Images)

نئی دہلی/اسلام آباد: پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے انعقاد پر بھارت میں سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بھارتی سوشل میڈیا اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی “وشو گرو” خارجہ پالیسی بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کر رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق خطے میں بھارت کے قریبی اتحادی کمزور پڑ چکے ہیں جبکہ مغربی ممالک بھی اہم معاملات پر بھارت کو نظر انداز کر رہے ہیں، دوسری جانب چین خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان اس وقت عالمی سفارتکاری کا مرکز بن چکا ہے، جہاں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔

بھارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں کانگریس دور حکومت کے دوران بھارت نے پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کر رکھا تھا، تاہم موجودہ حالات میں صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے جبکہ بھارت اس عمل سے باہر دکھائی دے رہا ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *