امریکی فوج نے ایران کے اہم سمندری راستوں پر ناکہ بندی کا آغاز کر دیا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ناکہ بندی کے دوران ایران کی جانب سے فائرنگ ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کے نتائج ایران کے لیے بہتر نہیں ہوں گے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے دائرہ کار میں آنے والے کسی بھی جہاز کو بغیر اجازت داخل ہونے یا باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں ایسے جہاز کو روکا، اس کا رخ موڑا یا اسے قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق اس پابندی کا اطلاق ان تمام بحری جہازوں پر ہوگا جو ناکہ بند علاقے میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے، اور انہیں سخت نگرانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے تحت آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔
سینٹکام کے مطابق 13 اپریل کو صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) سے ایرانی بندرگاہوں میں آنے اور جانے والی سمندری ٹریفک کو محدود کرنے کے اقدامات شروع کیے گئے، جو پاکستانی وقت کے مطابق گزشتہ روز شام 7 بجے نافذ العمل ہوئے۔
