اسلام آباد: طویل مذاکرات کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہو سکی، امریکا اور ایران خالی ہاتھ واپس

اسلام آباد: اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں ہونے والے ایران اور امریکا کے اہم مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے اختتام پذیر ہوگئے، تاہم دونوں فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکا کے مطالبات رکاوٹ، ایران کا مؤقف

ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود فریقین کسی مشترکہ فریم ورک یا معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا کے “حد سے زیادہ مطالبات” معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے، جبکہ آبنائے ہرمز، جوہری حقوق اور دیگر اہم امور پر اختلافات برقرار رہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا نے وہ مطالبات بھی پیش کیے جو وہ جنگ کے دوران حاصل نہیں کر سکا تھا، تاہم معاہدہ نہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

جے ڈی وینس: کوئی ڈیل نہیں ہو سکی

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران تصدیق کی کہ طویل مذاکرات کے باوجود کوئی حتمی ڈیل نہیں ہو سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت میں امریکا نے نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کیں، تاہم ایران نے انہیں تسلیم نہیں کیا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں ملی، اور واشنگٹن کو اس بات کی ٹھوس تصدیق درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

ایران کا عندیہ: مذاکرات جاری رہیں گے

ایرانی حکام نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی مرحلے کے مذاکرات تقریباً 14 گھنٹے بعد مکمل ہوئے، اور تکنیکی سطح پر مسودوں کا تبادلہ جاری ہے۔

ایران نے واضح کیا کہ کچھ اختلافات کے باوجود مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ انہیں جاری رکھا جائے گا، اور دونوں فریق وقفے کے بعد دوبارہ بات چیت کریں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ماہرین کی سطح پر مزید مشاورت کی ضرورت کے باعث مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ باقی امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔

لبنان اور خطے کی صورتحال بھی زیر بحث

ایران نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ لبنان میں مکمل جنگ بندی نہ ہونا ایک اہم مسئلہ ہے اور امریکا کو اسرائیل پر اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ ایرانی وفد نے یہ معاملہ مذاکرات کے دوران پاکستانی ثالث کے سامنے اٹھایا۔

مذاکرات کے دوران مثبت اشارہ

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے دوران ایک مثبت اشارہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔

وفود کی واپسی، پاکستان کا کردار

مذاکرات کے اختتام پر ایرانی وفد تہران روانہ ہو گیا، جبکہ امریکی وفد بھی واپس امریکا جا چکا ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان سہولتکار کا کردار ادا کیا اور دونوں فریقین نے مثبت ردعمل دیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکا مذاکراتی عمل جاری رکھیں گے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پیش رفت کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *