ایران نے آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول دی

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دنیا بھر کے تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اعلان انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے تناظر میں اپنے سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران تمام کمرشل بحری جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ مربوط اور مخصوص راستوں کے ذریعے گزر سکیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ روٹس پہلے ہی ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں اور تمام جہازوں کو انہی پر عمل کرنا ہوگا۔ تاہم تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایران نے یہ اہم فیصلہ کن شرائط کے تحت کیا ہے اور اس کے بدلے میں کیا معاملات طے پائے ہیں۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملہ کیا گیا تھا، جس میں آیت اللہ خامنہ ای اور عسکری قیادت سمیت اہم شخصیات شہید ہوگئی تھیں۔ ان حملوں کے ردعمل میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جو دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل و گیس کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے اثرات عالمی معیشت اور مہنگائی پر بھی پڑے۔

اس کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا نے مزید حملوں سے گریز اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے پر رضامندی ظاہر کی۔

بعد ازاں پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔ اس وقت فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ یہ سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد صورتحال کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا کوئی مستقل معاہدہ طے پاتا ہے یا کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *