اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا۔ایران مذاکرات سے قبل ایرانی اعلیٰ سطحی وفد کی آمد ایک غیر معمولی اور دل کو چھو لینے والے منظر کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی۔ یہ محض ایک سفارتی دورہ نہیں تھا بلکہ اپنے ساتھ درد، یاد اور ایک خاموش پیغام بھی لیے ہوئے تھا۔

ایرانی وفد جس طیارے میں اسلام آباد پہنچا، اس پر لکھا نام ’مناب 168‘ تھا—ایک ایسا نام جو صرف ایک عدد نہیں بلکہ سینکڑوں معصوم زندگیوں کی داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس طیارے کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس نام کے ذریعے دنیا کو ایک ایسے سانحے کی یاد دلائی جسے بھلانا ممکن نہیں۔
یہ نام جنوبی ایران کے شہر مناب کے اس دلخراش واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں شجرہ طیبہ گرلز اسکول کو نشانہ بنایا گیا۔ 28 فروری کو شروع ہونے والے حملوں کے پہلے ہی دن اس اسکول میں معصوم بچیوں اور اساتذہ پر موت برسائی گئی، جس کے نتیجے میں 168 سے زائد زندگیاں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں۔ وہ بستے جو خوابوں سے بھرے تھے، خون سے رنگ گئے، اور وہ کلاس رومز جہاں علم کی روشنی تھی، ویرانی کا منظر پیش کرنے لگے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ تقریباً چالیس دنوں میں ایران کے مختلف علاقوں میں شہری آبادی، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید حملوں کا سامنا رہا۔ سینکڑوں اسکولز، درجنوں جامعات اور طبی مراکز متاثر ہوئے—مگر سب سے زیادہ متاثر وہ بچے ہوئے جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں تھیں، نہ کہ خوف اور محرومی۔
’مناب 168‘ صرف ایک نام نہیں، ایک پکار ہے۔ ایرانی وفد نے اس کے ذریعے نہ صرف شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا بلکہ دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش بھی کی کہ جنگ کی اصل قیمت کون ادا کر رہا ہے۔ اس طیارے کے اندر کی تصاویر—خون آلود بستے، چھوٹے جوتے، بکھری ہوئی کاپیاں—ایسی خاموش گواہیاں تھیں جو کسی بھی دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔
جنوبی افریقا میں ایرانی سفارتخانے نے بھی ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے ایک جملہ لکھا: “ہم مناب کے بچوں کو کبھی نہیں بھولیں گے”—یہ جملہ دراصل پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش تھا۔
مبصرین کے مطابق یہ علامتی اقدام محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے—ایک یاد دہانی کہ جنگیں سرحدوں پر نہیں، گھروں، اسکولوں اور معصوم دلوں پر لڑی جا رہی ہیں۔ اور شاید یہی پیغام لے کر ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا تھا، کہ مذاکرات صرف سیاسی ضرورت نہیں، بلکہ انسانی بقا کی آخری امید بھی ہیں۔
