اسلام آباد: پاکستان نے اہم سفارتی پیش رفت کے تحت ایرانی اعلیٰ سطحی وفد کو غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کے ساتھ ایران سے اسلام آباد پہنچا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی جنگی طیاروں نے بندر عباس سے روانہ ہونے والے ایرانی وفد کو فضائی نگرانی اور حفاظتی حصار فراہم کیا اور اسے بحفاظت پاکستان تک لے کر آئے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان ایئر فورس نے اس مشن کے دوران ایران اور خلیج فارس کی فضائی حدود میں ایک مضبوط “حفاظتی شیلڈ” قائم رکھی، جس میں جدید لڑاکا طیاروں کے ساتھ ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) بھی شامل تھا۔ ان اقدامات کا مقصد وفد کو کسی بھی ممکنہ خطرے یا بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھنا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کر رہے ہیں، جو اہم سفارتی مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کے لیے اسلام آباد کو اہم سفارتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
تاہم اس پیش رفت کی باضابطہ تصدیق سرکاری سطح پر تاحال سامنے نہیں آئی، جبکہ دفاعی و سفارتی حلقے اسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اور حساس پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
