اصفہان: امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے شہر اصفہان میں اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنانے کے لیے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیا گیا، جو زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں میزائل بنانے والی تنصیبات سمیت تقریباً 40 اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اصفہان میں ہونے والی بمباری کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کی سب سے خطرناک بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔ اصفہان میں ہونے والے دھماکوں کی ویڈیوز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیں۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایک ایم کیو نائن ریپر ڈرون مار گرایا ہے، جس کی مالیت تقریباً 30 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایران اب تک 146 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کر چکا ہے، جبکہ ایم کیو نائن ریپر ڈرون نگرانی اور حملوں دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل اسرائیل کے مختلف علاقوں تل ابیب، بنی براک اور پیتاح تکوا میں گرے، جس کے نتیجے میں وسطی اسرائیل میں کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق گش دان کے علاقے میں 6 جبکہ بنی براک میں 3 افراد زخمی ہوئے، جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران مزید 4 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق 2 مارچ سے اب تک جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران 10 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔
اصفہان میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم سے زیر زمین اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا گیا
