بیجنگ: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان پر چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اس اقدام کی کھل کر مخالفت کر دی ہے، جس سے خطے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
چینی وزیر دفاع ایڈمرل ڈونگ جون نے امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ایران کے ساتھ اہم تجارتی اور توانائی کے معاہدے موجود ہیں، جن کا ہر صورت احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دیگر ممالک چین کے داخلی اور معاشی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔
ایڈمرل ڈونگ جون کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور یہ راستہ چین کے لیے کھلا ہے، جبکہ چینی بحری جہاز معمول کے مطابق اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔
دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی آبی راستے کو محفوظ، مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھنا پوری دنیا کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ چین توانائی کے تحفظ اور فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
چین نے اسلام آباد میں جاری مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ متعلقہ فریقین جنگ بندی کی پاسداری کریں گے اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکیں گے۔
ادھر برطانیہ اور آسٹریلیا نے بھی آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کی مخالفت کی ہے، جبکہ ترکیے اور جاپان نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔
ماہرین کے مطابق عالمی طاقتوں کے اس ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔
