واشنگٹن،پیرس (آئی این پی ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہماری فوج نے بہترین کام کیا، ایران ڈیل چاہتا ہے، اس کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے، ایران کو امن معاہدے کے لیے آبنائے ہرمز کو تیل کی نقل و حمل کے لیے کھولنا ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فوج نے بہترین کام کیا، ایران ڈیل چاہتا ہے، ایران کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے، ہم مذاکرات کررہے ہیں اور اس کا کوئی نتیجہ بھی نکلے گا۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے ایک اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مڈنائٹ ہیمر آپریشن کے بعدبھی ایران نے ایٹمی صلاحیت پرکام جاری رکھا، ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھاکہ ایران نے سعودی عرب، بحرین،قطر،کویت پر میزائل حملے کیے، ایران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کر رہے ہیں، ایران 47 سال سے مشرق وسطی میں سب کو ہراساں کر رہا تھا، ایران اب مشرق وسطی میں کسی کو ہراساں نہیں کر سکے گا، کسی کوتوقع نہیں تھی کہ ایران مشرق وسطی پر حملہ کردیگا،آج ہم ایرانی خطرے سے پاک مشرق وسطی کے عروج کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ نیٹو کاغذی شیر ہے، ہم نے ہمیشہ نیٹو کی مدد کی لیکن انہوں نے کبھی ہماری مدد نہیں کی، نیٹو نے ہماری مدد نہ کر کے بڑی غلطی کی ہے، نیٹو کے برعکس سعودی عرب، قطر، یوایای، بحرین،کویت نے مدد کی اور لڑے۔
ٹرمپ نے کہا کہ سعودی ولی عہد میرے دوست ہیں، وہ جنگجو ہیں،ایران سے نہیں ڈرتے، سعودی عرب، یوایای اور قطر کی لیڈرشپ کاشکرگزار ہوں۔امریکی صدر نے کہا کہ ترکیے نے معاملے سے خود کو دور رکھا، میرا خیال ہے مشرق وسطی کے تمام ممالک ابراہیم معاہدے میں شامل ہوں گے۔ٹرمپ نے کہا میں صدر منتخب نہ ہوتا تو امریکا اب تک ختم ہوچکا ہوتا، میں نے جرائم پیشہ افراد اور قاتلوں کو امریکا سے نکالا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں دنیا کے بریترین افراد کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، ہمیں ان پر اعتراض ہے جو امریکا میں جرائم کرتے ہیں۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا منتظرہیکہ مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کون کریگا؟ لیکن ہم ایران میں زمینی فوج اتارے بغیر اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔
فرانس میں جی سیون وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران میں فوجی مقاصد پانے کے باوجود بھی آبنائے ہرمز کھلی رکھنا ایک ‘فوری چیلنج’ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائیہرمز کھلی رکھنے پر بین الاقوامی تعاون حاصل کرے گا، خدشہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے لیے ٹول سسٹم قائم کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز بند کرنا خطرناک ہے، ضروری ہے کہ دنیا کے پاس ایک منصوبہ موجود ہو، یوکرین کے لیے مختص ہتھیار ایران کے خلاف استعمال نہیں کیے جا رہے لیکن ایسا ہو سکتا ہے۔مارکو روبیو کے مطابق امریکا منتظرہیکہ مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کون کریگا؟ لیکن ایران میں زمینی فوج اتارے بغیر اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔
