تہران،تل ابیب،واشنگٹن، دبئی، ریاض (آئی این پی )مشرق وسطی میں جنگ 29 ویں روز میں داخل ہو گئی،ایران نے اسرائیل پر ایک اور تگڑا وار کرتے ہوئے کلسٹرمیزائل داغ دئیے،جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے،کویت میں 6 امریکی جہاز تباہ کر دیئے گئے،سعودی عرب میں سلطان ایئربیس پر امریکا کو بڑا نقصان،کئی ری فیولنگ طیارے متاثر، بارہ امریکی اہلکار زخمی ہوگئے،ابوظہبی میں میزائل حملہ ناکام، ملبہ گرنے سے 5 افراد زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیل نے توانائی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے تل ابیب میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کونشانہ بنایا جارہا ہے،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے،لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکا کے 6 ٹیکٹیکل جہازوں کونشانہ بنایا ہے، 3 لڑاکا جہازسمندر میں غرق ہوگئے جبکہ دیگر 3 میں آگ لگی ہوئی ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ وعدہ صادق چہارم نامی آپریشن کے تحت دشمن پرحملے کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحل اورایک ہوٹل میں امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے،ایرانی حکام کے مطابق دونوں حملوں میں کئی امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔سعودی عرب کے علاقے الخرج میں پرنس سلطان ائربیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعوی کیا گیا ہے جس میں ری فیولنگ اور ایئرسپورٹ فلیٹ کو ہدف بنایا گیا، امریکی میڈیا کے مطابق اس حملوں میں کم از کم 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ دھر اسرائیل اورامریکا کی ایران پر بھی جارحیت جاری،بوشہر پاور پلاونٹ اور اخنداب میں واٹر پلانٹ پر حملے کیے گئے،تہران میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر شدید بمباری کی گئی۔
اسرائیل نے ایران کی جانب سیکلسٹر بموں سے حملوں میں ایک شخص کی ہلاکت اور 2 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج آئی ڈی ایف نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کی صبح یمن سے اسرائیل کی طرف ایک میزائل داغا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے اس طرح کا حملہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد سے پہلا حملہ ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ خطرے کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا اور نیگیو خطے میں بیر شیبہ شہر اور آس پاس کی کمیونٹیز میں سائرن بجائے گئے۔
اس نئی صورتحال کے درمیان رہائشیوں کو ہوم فرنٹ کمانڈ کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔حوثیوں کی جانب سے یہ میزایل حملہ جنوبی اسرائیل کی طرف داغا گیا۔ بعد ازاں بیر شیبہ اور قریبی علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا، جبکہ ایلات میں خطرے کے امکان کے حوالے سے ابتدائی وارننگ بھی جاری کی گئی۔حملے کے وقت ہلاکتوں یا براہ راست نقصانات کی فی الحال کوئی فوری اطلاع میسر نہیں۔
واضح رہے کہ حوثی، ایک ایرانی حمایت یافتہ پراکسی، اس سے قبل خطے میں دیگر ایرانی پراکسیوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کو نشانہ بنا چکی ہے تاہم 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد یہ یمن سے اسرائیلی سرزمین کی طرف پہلا تصدیق شدہ میزائل لانچ ہے۔یمنی مسلح افواج(حوثی دھڑے) کے ترجمان یحیی سریع نے ٹیلیگرام پر بیان میں کہا کہ براہِ راست فوجی مداخلت کے لیے ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور یہ اقدامات درج ذیل صورتوں میں کیے جائیں گے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران اور حزب اللہ کے ڈرونز اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے درد سر بن گئے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کے سستے اور خودکش شاہد ڈرونز کو پکڑنا مشکل ہورہا ہے اور ان چھوٹے ڈرونز کو روکنے کے لیے لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیاکے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا یوکرین کے صدر زیلنکسی سے رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماں نے ایرانی ڈرون حملوں کے خلاف تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور یوکرین نے اسرائیل کو ڈرونز کے خلاف موثر ہتھیار فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یوکرین نے مشرق وسطی کے 5 ممالک میں ڈرونز کے خلاف فوجی یونٹس تعینات کیے ہیں، ان ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور اردن شامل ہیں۔
ادھر متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک خطرناک واقعے کے دوران بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے 2 مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ 5 افراد زخمی ہو گئے۔حکام کے مطابق یہ واقعہ خلیفہ اکنامک زون (KEZAD)
کے قریب پیش آیا، جو کہ ایک بڑا تجارتی، لاجسٹک اور صنعتی مرکز ہے۔سرکاری بیان کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے کامیابی کے ساتھ ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم اس کے ملبے کے گرنے سے قریبی علاقوں میں 2 الگ الگ آگ لگنے کے واقعات رونما ہوئے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والے پانچوں افراد بھارتی شہری ہیں، جنہیں معمولی سے درمیانے درجے کی چوٹیں آئی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی جاری ہے۔
ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے خصوصی آلات اور ہنگامی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جبکہ مزید معلومات صورتِ حال کے واضح ہونے پر جاری کی جائیں گی۔ دریں اثنا امریکہ کا ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش مشرقِ وسطی کے لیے روانہ ہوگیا۔بی بی سی کے مطابق ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش مشرقِ وسطی کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔یہ طیارہ بردار بحری بیڑا 80 سے زائد طیارے لیجا سکتا ہے اور اسے مشرقِ وسطی میں امریکی سینٹرل کمانڈ میں تعینات کیا جائے گا۔
امریکی حکام نے سی بی ایس کو بتایا کہ بڑے پیمانے پر کیریئر اور اس کے سٹرائیک گروپ نے اس ماہ کے شروع میں تعیناتی سے پہلے کی تربیت مکمل کی تھی اور اب وہ ایران میں امریکی کارروائیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔اس سے قبل دو گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر – یو ایس ایس ڈونلڈ کک اور یو ایس ایس میسن بھی اس ہفتے ایران میں امریکی کارروائیوں میں شامل ہونے کے لیے امریکہ سے روانہ ہوئے تھے۔گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس راس بھی اس ہفتے امریکہ سے روانہ ہوا ہے، تاہم اس کی منزل کو ظاہر نہیں کیا گیا۔
