پیٹرول 137، ڈیزل 184روپے مہنگا کر دیا گیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا فیصلہ کرتے ہوئے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دیا گیا ہے، اور یہ نئی قیمتیں کل سے نافذ العمل ہوں گی۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی حالات، خاص طور پر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، نے معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو مسلسل بڑھ رہا ہے اور اسی کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ تیل کی سپلائی کا بڑا انحصار آبنائے ہرمز پر ہے۔ کئی ممالک میں اسٹریٹیجک ذخائر ہونے کے باوجود توانائی بحران کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

حکومت نے پہلے اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی، تاہم موجودہ حالات میں قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔علی پرویز ملک کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر بنائی گئی کمیٹی نے صورتحال کا جائزہ لے کر فوری فیصلے کیے، جس سے ایندھن کی فراہمی میں تعطل پیدا نہیں ہونے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت نے عمومی سبسڈی ختم کر کے صرف مستحق طبقات کو ہدف بنا کر ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ موجودہ عالمی قیمتوں کے باعث سب کو یکساں سبسڈی دینا ممکن نہیں رہا۔

دوسری جانب وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی متعارف کرا رہی ہے تاکہ حقیقی حقداروں کو فائدہ پہنچ سکے۔ اس کے تحت موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں کو ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی۔ انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی، جبکہ ٹرک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔ ریلوے کے کرایوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بھی حکومت مالی معاونت فراہم کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *